10 ستمبر 2026 - 20:46
آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں، مارک روٹے

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ یہ تنظیم آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کی کارروائی نہیں کر رہی ہے اور اس کارروائی کا نیٹو سے کوئی تعلق نہیں ہے، تنظیم صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجسی ـ ابنا || نیٹو کے سیکرٹری جنرل، "مارک روٹے" (Mark Rutte) نے جمعرات کے روز کہا کہ نیٹو تنظیم آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی (Landmines Clearing) کی کارروائی نہیں کر رہی ہے، لیکن صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

روٹے نے یہ بیان دورہ جرمنی کے دوران دارالحکومت برلن دیا۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی کے بارے میں کہا: "یہ معاملہ نیٹو کے دائرہ کار سے متعلق نہیں ہے۔ البتہ جو کچھ ہو رہا ہے ہم اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور نیٹو کے رکن ممالک ایک دوسرے کے ساتھ قریبی ہم آہنگی رکھتے ہیں۔"

روٹے نے آبنائے ہرمز میں فرانس اور یورپی ممالک کی موجودگی کی کوششوں کے بارے بھی کچھ دعوے کئے اور کہا: "فرانس اور برطانیہ کی طرف سے ایک اہم اقدام منصوبہ موجود ہے۔ لٹویا، لتھوینیا اور کچھ دوسرے ممالک، سرگرم ہیں؛ گوکہ وہ اپنی افواج کو خطرے میں نہیں ڈالتے، لیکن بارودی سرنگوں کی صفائی کے میدان میں مدد کرتے ہیں۔ یہ تمام اقدامات ـ روٹے کے بقول ـ امریکہ کے تعاون سے کئے جا رہے ہیں۔ یہ نیٹو کا مشن نہیں ہے، [روٹے نے یہ بھی دعوی کیا کہ] ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور جہاں بھی ہو سکے مدد کرتے ہیں۔"

اسلامی جمہوریہ ایران کی نائب وزیر خارجہ برائے قانونی و بین الاقوامی امور، "ڈاکٹر کاظم غریب آبادی" نے اس سے قبل کہا تھا: "کوئی بھی یورپی بحری جہاز جو کسی بھی بہانے، آبنائے ہرمز کے قریب آنا چاہے، وہ ہماری مسلح افواج کے حملوں کا جائز ہدف ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی پالیسی یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کبھی بھی جنگ سے پہلے کے حالات میں واپس نہ جا سکے گا۔"

امریکی صدر "ڈونلڈ ٹرمپ" نے بارہا دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بارودی سرنگوں سے مکمل طور پر صاف کیا گیا ہے!!

ادھر فائننشل ٹائمز اخبار نے لکھا ہے کہ بحری جہازوں کے مالکان اور سیکیورٹی مشیروں کا ماننا ہے کہ امریکہ نے ممکنہ طور پر آبنائے کے جنوبی نصف حصے کو عمان کے ساحل کے قریب صاف کیا ہے؛ تاہم مشترکہ بحری معلوماتی مرکز، جو امریکی بحریہ کے زیر انتظام ہے، تیرتی ہوئی بارودی سرنگوں کے مسلسل خطرے سے خبردار کیا ہے؛ اور ٹرمپ نیز فائننشل ٹائمز کے دعوؤں کے برعکس، جہازوں کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے واقعات مسلسل رونما ہو رہے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha